
علم اور بصیرت: روایتی دینی علوم اور عصری تعلیمی افق
Sohail Ahmad
Author & Scholar
📅 October 20, 2026
Publication Date
علم ایک ایسا نور ہے جو انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر بصیرت کی روشنی عطا کرتا ہے۔ روایتی علومِ دینیہ یعنی درسِ نظامی کے نصاب نے صدیوں تک امتِ مسلمہ کو ایسے نابغہ روزگار افراد دیے جنہوں نے دنیا کو اخلاق، تہذیب اور قانون کے بہترین نمونے پیش کیے۔
«قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ»
آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ دینی علوم اور عصری علوم کو ایک دوسرے کا حریف سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اسلام نے کبھی بھی حصولِ علم میں ایسی تفریق کو پسند نہیں کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے دینی مدارس کے فضلاء جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے رموز سے واقف ہوں، اور ہمارے عصری جامعات کے طلبہ اپنے دین کی اساسی تعلیمات اور اخلاقی اقدار سے آراستہ ہوں۔
اہلِ علم کی بنیادی ذمہ داری
اہلِ علم پر لازم ہے کہ وہ امت کے فکری بحران کا ادراک کریں اور حکمت و بصیرت کے ساتھ نوجوانوں کی فکری تربیت کا بیڑا اٹھائیں۔ اس فکری سفر میں Sohail Ahmad کی کوششیں اسی پل کی تعمیر کے لیے وقف ہیں۔
Reflections & Community Feedback
Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.
12 Community Reviews
Leave a Comment or Rating
Community Reflections (0)
No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!