
فلکیاتسائنس
چاند دور ہوتا جا رہا ہے
S
Sohail Ahmad
Author & Scholar
📅 October 19, 2026
Publication Date
چاند دور ہوتا جا رہا ہے
چاند کو ہم صدیوں سے دیکھتے آئے ہیں۔کبھی ہلال کی صورت میں، کبھی بدرِ کامل کی شکل میں، کبھی بادلوں کے پیچھے چھپتے اور کبھی خاموش راتوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ روشن۔
ہم عموماً اسے ایک خوبصورت منظر سمجھ کر گزر جاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ کوئی تصویر کھینچ کر محفوظ کر لیتے ہیں۔ لیکن جدید ریسرچ نے چاند کے بارے میں ایک ایسی حقیقت دریافت کی ہے جو بظاہر ناقابلِ یقین ہے، مگر اسے باقاعدہ پیمائش اور تحقیق کے ذریعے ثابت کیا جا چکا ہے،
وہ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ:
"چاند ہر سال زمین سے تقریباً 3.8 سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے۔"
یہ فاصلہ اتنا معمولی ہے کہ انسانی آنکھ اسے محسوس نہیں کرسکتی۔ لیکن کئی دہائیوں کے سائنسی مشاہدات نے اس معمولی تبدیلی کو بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چاند زمین سے دور کیوں جا رہا ہے؟
اس دور ہونے کا تعلق زمین کے سمندروں میں پیدا ہونے والے مدّوجزر سے ہے۔
چاند کی کششِ ثقل زمین کے سمندروں کو متاثر کرتی ہے۔ زمین اپنی محوری گردش کی وجہ سے ان سمندری ابھاروں کو چاند کے عین نیچے رہنے کے بجائے اس کی حرکت کی سمت میں کچھ آگے لے جاتی ہے۔ اور ایک ناقابل یقین حقیقت ہے۔
یہ معمولی سا فرق زمین اور چاند کے درمیان ایک مسلسل کشش پیدا کرتا ہے۔ اس عمل میں زمین کی گردشی توانائی کا کچھ حصہ چاند کے مداری نظام میں منتقل ہوتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
زمین کی گردش بتدریج سست ہوتی ہے، جبکہ چاند اپنے مدار میں آہستہ آہستہ مزید دور چلا جاتا ہے۔ (NASA Jet Propulsion Laboratory)
لیکن اس پوری کہانی کا سب سے حیرت انگیز پہلو شاید یہ ہے کہ سائنس دان یہ سب کچھ محض حساب سے نہیں بتا رہے۔ وہ چاند کے فاصلے کو حقیقتاً ناپ رہے ہیں۔ چاند کی سطح پر Apollo مشنز کے دور میں خصوصی Retroreflectors نصب کیے گئے تھے۔ زمین سے ان کی طرف لیزر شعاع بھیجی جاتی ہے اور واپس آنے والی شعاع کے وقت کو انتہائی درستگی سے ناپا جاتا ہے۔
اسی تکنیک کو Lunar Laser Ranging کہا جاتا ہے۔1969 سے جاری ان پیمائشوں نے زمین اور چاند کے باہمی تعلق، چاند کے مدار، زمین کی گردش اور مدّوجزر کے اثرات کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد دی ہے۔ (NASA)
یعنی چاند کا ہم سے دور ہونا محض ایک دلچسپ دعویٰ نہیں؛ اس کے پیچھے دہائیوں پر مشتمل مشاہدات، لیزر پیمائشیں اور سائنسی تجزیے موجود ہیں۔
انٹرنیشنل لیزر رینجنگ سروس کے سائنسی ریکارڈ کے مطابق چاند کے زمین سے دور ہونے کی موجودہ شرح تقریباً 3.8 سینٹی میٹر فی سال ہے، اور اس کا بنیادی تعلق Earth–Moon system میں tidal dissipation سے ہے۔ (ILRS)
یہاں آکر ایک معمولی سا عدد اچانک بہت بڑی کہانی بن جاتا ہے۔
3.8 سینٹی میٹر… صرف ایک سال میں!
نہ ہمیں اس کی کوئی آواز سنائی دیتی ہے،
نہ آنکھ اسے حرکت کرتے دیکھ سکتی ہے،
نہ ایک انسان اپنی زندگی میں اسے محسوس کرسکتا ہے۔
مگر وقت کی لمبی مدت میں یہی معمولی تبدیلیاں زمین اور چاند کے پورے نظام کی تاریخ بدل دیتی ہیں۔اور شاید یہی سائنس کی خوبصورتی ہے:
کائنات کی بہت بڑی تبدیلیاں ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات وہ اتنی خاموشی سے واقع ہوتی ہیں کہ انہیں محسوس کرنے کے لیے نسلوں تک تحقیق کرنا پڑتی ہے۔
۔۔
سہیل احمد ضیاء
اگر کسی بھائی کو مزید کچھ جاننا ہے تو اصطلاحات کو تلاش کریں :
NASA، Jet Propulsion Laboratory (JPL)، International Laser Ranging Service (ILRS)، اور Lunar Laser Ranging سے متعلق سائنسی مطالعات۔ (ILRS)
Reflections & Community Feedback
Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.
Leave a Comment or Rating
Community Reflections (0)
No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!