
Ethics & SocietyIslamic Thoughtاسلامی فکرتصوف
انسان اپنی ذات میں کیا ہے؟
S
Sohail Ahmad
Author & Scholar
📅 October 20, 2026
Publication Date
انسان اپنی ذات میں کیا ہے؟
کبھی کبھی یہ سوال انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
ہم اپنے علم، اپنی صلاحیت، اپنی کامیابی اور اپنی حیثیت پر فخر کرتے ہیں، لیکن ذرا غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بہت کچھ ہمیں عطا ہوا ہے۔ علم بھی عطا، صلاحیت بھی عطا، مواقع بھی عطا اور کامیابی کے اسباب بھی عطا۔
پھر آخر اپنا کیا ہے؟
شاید اسی لیے انسان کی سب سے خوب صورت حالت یہ ہے کہ وہ اپنی کم مائیگی کو پہچانے اور اپنی نسبت کو مضبوط کرے۔
مشہور صوفی شاعر مرزا عبدالقادر بیدل دہلویؒ نے اسی حقیقت کو بڑے خوب صورت انداز میں کہا ہے:
گرچہ از خارم ولیکن بہ گلستاں بستہام
در ریاضِ آفرینش رشتۂ گلدستہام
اگرچہ میں کانٹا ہوں، لیکن گلستان سے بندھا ہوا ہوں
باغِ آفرینش میں، میں گلدستے کو باندھنے والا دھاگا ہوں۔
بات بہت سادہ ہے، مگر ہے بہت گہری۔
کانٹا اپنی جگہ کانٹا ہے، اور دھاگا اپنی جگہ معمولی سا دھاگا، لیکن جب نسبت گلستان اور پھولوں سے ہو جائے تو ان کی حیثیت بدل جاتی ہے۔
ہمارے علماء حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ بھی اس شعر کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ اس شعر میں ایک ایسی بات ہے جسے ہر انسان اپنی زندگی سے جوڑ سکتا ہے:
ہم اپنی ذات میں جتنے بھی کمزور ہوں، ہماری نسبت ہمیں بڑا بنا سکتی ہے۔
اس لیے کبھی یہ نہ سوچیں کہ
میں کیا ہوں؟
بلکہ یہ سوچیں کہ:
میں کس سے جڑا ہوا ہوں؟
اگر تعلق دنیا کی چند وقتی چیزوں سے ہے تو وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گی۔ لیکن اگر تعلق اپنے رب سے ہو، رسول اللہ ﷺ کی محبت و اتباع سے ہو، اور نیک لوگوں اور خیر کے راستے سے ہو تو یہی نسبت انسان کی زندگی کو مقصد، برکت اور معنی عطا کر دیتی ہے۔
ہماری کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہم خود کو بڑا ثابت کریں؛
اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی نسبت درست کر لیں۔
کیونکہ کبھی ایک معمولی سا دھاگا بھی خوب صورت پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا۔
اور کبھی ایک کمزور سا انسان بھی کسی بڑی نسبت کی وجہ سے خیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اس لیے اپنی ذات پر ناز نہ کیجیے، اپنی نسبت کی حفاظت کیجیے۔
ہم کتنے بڑے ہیں، یہ اتنا اہم نہیں
ہم کس سے جڑے ہوئے ہیں، اصل بات یہ ہے۔
کمال اپنا نہیں ہوتا،
کمال تو نسبت کا ہوتا ہے۔
#نسبت #تعلق_باللہ #عبدیت #عجز_و_انکساری #مرزا_بیدل #بیدل_دہلوی #عبدالحئی_عارفی #تعلق_مع_اللہ #اسلامی_فکر #روحانیت #فکر_و_معرفت #تصوف #
کبھی کبھی یہ سوال انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
ہم اپنے علم، اپنی صلاحیت، اپنی کامیابی اور اپنی حیثیت پر فخر کرتے ہیں، لیکن ذرا غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بہت کچھ ہمیں عطا ہوا ہے۔ علم بھی عطا، صلاحیت بھی عطا، مواقع بھی عطا اور کامیابی کے اسباب بھی عطا۔
پھر آخر اپنا کیا ہے؟
شاید اسی لیے انسان کی سب سے خوب صورت حالت یہ ہے کہ وہ اپنی کم مائیگی کو پہچانے اور اپنی نسبت کو مضبوط کرے۔
مشہور صوفی شاعر مرزا عبدالقادر بیدل دہلویؒ نے اسی حقیقت کو بڑے خوب صورت انداز میں کہا ہے:
گرچہ از خارم ولیکن بہ گلستاں بستہام
در ریاضِ آفرینش رشتۂ گلدستہام
اگرچہ میں کانٹا ہوں، لیکن گلستان سے بندھا ہوا ہوں
باغِ آفرینش میں، میں گلدستے کو باندھنے والا دھاگا ہوں۔
بات بہت سادہ ہے، مگر ہے بہت گہری۔
کانٹا اپنی جگہ کانٹا ہے، اور دھاگا اپنی جگہ معمولی سا دھاگا، لیکن جب نسبت گلستان اور پھولوں سے ہو جائے تو ان کی حیثیت بدل جاتی ہے۔
ہمارے علماء حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ بھی اس شعر کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ اس شعر میں ایک ایسی بات ہے جسے ہر انسان اپنی زندگی سے جوڑ سکتا ہے:
ہم اپنی ذات میں جتنے بھی کمزور ہوں، ہماری نسبت ہمیں بڑا بنا سکتی ہے۔
اس لیے کبھی یہ نہ سوچیں کہ
میں کیا ہوں؟
بلکہ یہ سوچیں کہ:
میں کس سے جڑا ہوا ہوں؟
اگر تعلق دنیا کی چند وقتی چیزوں سے ہے تو وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گی۔ لیکن اگر تعلق اپنے رب سے ہو، رسول اللہ ﷺ کی محبت و اتباع سے ہو، اور نیک لوگوں اور خیر کے راستے سے ہو تو یہی نسبت انسان کی زندگی کو مقصد، برکت اور معنی عطا کر دیتی ہے۔
ہماری کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہم خود کو بڑا ثابت کریں؛
اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی نسبت درست کر لیں۔
کیونکہ کبھی ایک معمولی سا دھاگا بھی خوب صورت پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا۔
اور کبھی ایک کمزور سا انسان بھی کسی بڑی نسبت کی وجہ سے خیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اس لیے اپنی ذات پر ناز نہ کیجیے، اپنی نسبت کی حفاظت کیجیے۔
ہم کتنے بڑے ہیں، یہ اتنا اہم نہیں
ہم کس سے جڑے ہوئے ہیں، اصل بات یہ ہے۔
کمال اپنا نہیں ہوتا،
کمال تو نسبت کا ہوتا ہے۔
#نسبت #تعلق_باللہ #عبدیت #عجز_و_انکساری #مرزا_بیدل #بیدل_دہلوی #عبدالحئی_عارفی #تعلق_مع_اللہ #اسلامی_فکر #روحانیت #فکر_و_معرفت #تصوف #
Reflections & Community Feedback
Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.
Leave a Comment or Rating
Community Reflections (0)
No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!